پڑھیں! دنیا کی بہترین کتابوں کی سمری اردو میں

نئی اپلوڈ کی گئیں کتابیں

Main or Mera Pakistan

Imran Khan

کمال ذہانت سے لکھی گئی یہ کتاب پاکستان کی تاریخ اور مصنف کی آپ بیتی کا حسین امتزاج ہے۔یہ ہر اس چیلنج کی داستان ہے، جو اول کرکٹ اور بعد میں انسانی خدمت کی مہمات میں انہیں پیش آئے۔ان امتحانوں سے جو سبق سیکھے ان سے سیاست کے میدان میں ان کے داخلے کا ماحول مرتب ہوا۔زیرِ نظر کتاب سادہ الفاظ میں بیان کی گئی ایک دلکش کہانی ہے۔ یہ پاکستانی قوم کے طرزِ حیات اور سیاست کے علاوہ عظیم کھلاڑی کی ناکامیوں اور فتوحات کی داستان بھی ہے۔مصنف کی یہ تحریر اپنی خود نوشت پر مبنی ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔اس میں مصنف نے اپنا بچپن، جوانی، تعلیم اور زندگی میں رونما ہونے والے تقریباً تمام واقعات تحریر کئے ہیں۔مصنف نے پاکستان کے سیاسی، داخلی، خارجی اور معاشرتی معاملات پر روشنی ڈالی ہے۔

 

Mard-i-Abresham

Bano Qudsia

زیرِ نظر کتاب قدرت اللہ شہاب کی ذاتی اور نجی زندگی پر تحریر کی گئی ہے جس کومصنفہ نے ’’مردِ ابریشم‘‘ کا نام دیا ہے۔کتاب کی مصنفہ بانو قدسیہ ہیں ۔ وہ اشفاق احمد خان کی شریکِ حیات تھیں جو کہ بذاتِ خود پاکستان کے بہت بڑے ادیب اور تنقید نگار تھے۔ مصنفہ نے اپنے شوہر اشفاق احمدخان کی فرمائش پر قدرت شہاب کی ذاتی اور نجی زندگی کے حالات کو اپنے الفاظ میں قلمبند کیا ہے۔ مصنفہ کے شوہر اشفاق احمد خان اور قدرت اللہ شہاب کی آپس میں گہری دلی وابستگی اور گھریلو مراسم تھے ۔اس تعلق اور آشنائی کی بناء پر مصنفہ کو قدرت اللہ شہاب کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ زیرِ نظر کتاب میں مصنفہ نے اشفاق احمد خان او رقدرت اللہ شہاب اور ان کے احباب کے کرداراور حالات و واقعات بیان کئے ہیں۔

Moam Ki Galian

Bano Qudsia

زیرِ نظرناول جسے ’’موم کی گلیاں ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اس میں شہدکی مکھی اور اس کے خاندان کے بارے تحریر کیا گیا ہے۔ شہد کی مکھیوں کی اقسام اور ان کے کام کرنے کا طریقہ وغیرہ بیان کیا گیا ہے ۔ شہد کی مکھی کے خاندان میں ’’ملکہ‘‘ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جو سارے خاندان کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے اورچھتہ بنانے سے لے کر شہد بننے کے تمام عمل میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ناول کے مرکزی کردار نے شہد کی مکھی کو بنیاد بنا کر یہ واضح کی کوشش کی ہے کہ انسان بھی اگر ان مکھیوں کے رہن سہن اور نظم و ضبط پر عمل پیرا ہوکر کامیاب زندگی بسر سکتا ہے۔

Raja Gidh

Bano Qudsia

زیرِ نظرناول جسے ’’راجہ گدھ ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے میں مصنفہ نے کالج سے یونیورسٹی جانے والے طلباء وطالبات اور ان کے تعلیم حاصل کرنے کے دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کا ذکر کیا ہے۔مصنفہ نے اپنے زندگی میں بہت سی کتابیں لکھیں۔زیرِ نظر کتاب میں مصنفہ نے دو محبت کرنے والوں کو موضوعِ سخن بنایا ہے جن کویونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے کرتے ایک دوسرے سے محبت ہوجاتی ہے لیکن وہ اپنے گھر والوں، اپنے بڑوں کی انا کی بھینٹ چڑھ گئے اور ان کے دل کے ارمان دل ہی میں رہ گئے۔ ان کا ملاپ نہ ہوسکا۔مصنفہ ویسے تو بہت سے ناولوں، افسانوں اور ڈراموں کی رائٹر ہیں لیکن ان کے اس ناول کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اُن کے اندازِ بیان کو قارئین نے بے حد پسند یدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔

7 Habits of Highly Effective People

Stephen R. Covey

مصنف ڈاکٹر اسٹیفن آر کووی نے انتہائی جامع اور مدللل انداز میں انسانی شخصیت کے اُن پہلوؤ ں کو اجاگر کیا ہے جن سے کام لیتے ہوئے لوگ دوسروں کو متاثر کر نے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں اور معاشرے میں’’ متاثر کن‘‘ یا’’ موثر شخصیات‘‘ کہلاتے ہیں۔ اس کتاب میں دوسروں پر انحصار کرنے کے مرحلے سے لیکر دوسروں سے تعاون اور پھر مکمل خود انحصاری تک کے مراحل کو تفصیل سے بیان کی گیاہے۔

Dr. Atta Ur Rahman

Keytaab Team

پاکستان کے عظیم سائنسدان اور سابقہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن 22ستمبر 1942  کو انڈیا کے شہر دہلی میں ایک اُردو بو لنے والے گھرانے میں پیدا ہو ئے ۔ اُن کے دا دا سر عبدالرحمن دہلی یو نیورسٹی میں 1934سے لیکر 1938 تک وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دیتے ر ہے اور بعد میں کچھ عر صہ کیلئے مدراس ہا ئی کو رٹ میں حج بھی ر ہے ۔ 1946 میں سر عبدالرحمن پنجاب یو نیورسٹی لا ہور کے وا ئس چانسلر مقر ر ہو ئے ۔ تقسیم ہندوستان سے ایک سال پہلے ہی سر عبد الر حمن نے اپنے خاندان کو پاکستان منتقل کر دیا۔ 1949  میں وہ پاکستان کی سپریم کو رٹ کے سنیئر جج مقر ر ہو ئے ۔ڈ اکٹر عطاالرحمن کے والد جمیل الر حمن ایک وکیل تھے۔

ممبرز ہر ہفتے ایک کتاب مفت پڑھ سکتے ہیں

The Miracle Morning

Hall Elord

1

مصنف کا مختصر تعارف:
کتا ب The Miracle Morning کے مصنف ہال ایلروڈ 30 مئی 1979کو امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر کماریلو میں پیدا ہوئے۔جب ان کی عمر ۲۰ سال تھی  تو انہیں شراب کے نشے میں دھت ایک کار ڈرائیور نے ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیا جو ۷۰ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ چھ منٹ کے لئے بالکل ساکن ہو گئے اور لوگ سمجھے کہ وہ انتقال کر چکے ہیں لیکن معجزاتی طور پر چھ دن کوما(Comma) میں گزارنے کے بعد انہیں ہوش آگیا ۔ انہیں معلوم ہو ا کہ ان کا دماغ مستقل طور پرمفلوج ہو چکا ہے اور ان کے جسم کی 11 ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ ڈاکٹر وں کا خیال تھا کہ وہ پوری زندگی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو پائیں گے۔بعد میں مسلسل مشق اور جد و جہد سے نہ صرف وہ چلنے کے قابل ہوگئے بلکہ انہوں نے ۵۲ کلو میٹر ’’ میراتھن ‘‘ریس میں حصہ لیا۔ 

2

کتاب کا مختصر تعارف:

 آج کا معاشرہ افراتفری اور بے چینی کا شکار ہے اور انسان بہتر زندگی کے خواب کے تعاقب میں  دل کا چین اور روح کا سکون برباد کر بیٹھاہے۔ نہ صرف یہ افراتفری معاشرے میں لڑائی جھگڑوں ، حادثات اور انتشار کی صورت میں نظر آتی ہے بلکہ انسان کے اندر بھی ایک ٹوٹ پھوٹ اور انتشاربرپا ہے۔چنانچہ انسان اس وقت تک کامیابی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے اندر کے انتشار پر قابو نہ پالے۔ کتاب The Miracle Morningزندگی کو خوشحال اور کامیاب بنانے کے لئے ایک انمول تحفہ ہے۔ اس میں بیان کئے گئے چھ اصول آپ کی زندگی کو بدل سکتے ہیں ۔ ہال ایلروڈ نے ان چھ اصولوں کا نام Life Saversیعنی زندگی کے محافظ رکھا ہے۔

3

کتاب کے اہم نکات:

ہال ایلروڈ نے ان چھ اصولوں کا نام Life Saversیعنی زندگی کے محافظ رکھا ہے جو درج ذیل ہیں۔

 (خاموشی)Silence:S

 (اثبات، اقرار کرنا)Affirmation:A

 (تصور، ذہنی تصاویر بنانا) Visualization:V

 (ورزش کرنا) Exercise:E

مطالعہ کرنا)) Reading:R

 (کتابت، لکھنا) Scribing:S

 LIFE SAVERS آپ کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں اگر آپ ایک گھنٹہ صبح میں انہیں اپنا معمول بنا لیں۔

4

Key-1: ہم میں سے اکثر لوگ اوسط/ درمیانے درجے کی زندگی گزارتے ہیں باوجود اس کے کہ ہم سب میں کامیاب انسان بننے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اگر ہم ایک اوسط امریکی کی زندگی کا جائزہ لیں تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ عموماً 10,000ڈالر کا مقروض ہو گا، موٹاپے کا شکار اور اپنی ملازمت یا کام سے نفرت کرنے والا ایک دکھی اور مایوس ایسا انسان جو کسی کو اپنا قریبی یا سچا دوست نہیں کہہ سکتا۔

واضح طور پر اکثر امریکی ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جو پوری طرح اطمینان بخش نہیں ہے۔ سوشل سیکورٹی انتظامیہ کہتی ہے کہ اگر آپ پیشہ ورانہ زندگی کاآعاز کرنے والے 100لوگوں کا انتخاب کریں اور چالیس سال تک ان کا مشاہدہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے صرف ایک شخص دولت مند بن چکا ہو گا۔ چار معاشی طور پر مستحکم ہوں گے، پانچ کو اپنی ملازمت یا کام جاری رکھنے کی ضرورت ہو گی، 36وفات پا چکے ہوں گے اور 54لوگ اپنے دوستوں یاخاندان کے افراد کے مالی سہارے کے محتاج ہوں گے۔ یہ اعداد و شمار حقیقتاً ایک بہت خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔

5

معاشی طور پر خودمختار ہونا ایک طرح کی آزادی اور بے فکری کی زندگی ہے کیونکہ آپ کو اپنے بِل ادا کرنے یاقرض میں پھنس جانے کی پریشانی نہیں ہوتی۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں ہمیشہ سے زیادہ سکون آور ادویات استعمال ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں ہر دو میں سے ایک شادی ٹوٹ رہی ہے۔آج کے دور میں ہر امریکی انفرادی طور پر ہمیشہ سے زیادہ مقروض ہے۔ موٹاپا ایک طرح سے وبا بن چکا ہے جبکہ سرطان اور دل کی بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود یہ ممکن ہے کہ ہم ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گذارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ معاملات کو اپنے حق میں بدلنا اب بھی ممکن ہے۔

مصنف Hal Elrodاسی بات کی ایک حیران کن مثال ہے۔ Elrodکار کے ایک حادثے میں چھ منٹ کے لئے مر گیا۔کئی دن کوما میں رہنے کے بعد جب وہ بادار ہوا تو ڈاکٹرز نے اسے بتایا کہ اسے سنگین دماغی چوٹیں آئی ہیں اور شاید وہزندگی بھر اپنے پیروں پر نہ چل پائے۔ تاہم وہ صحت یاب ہو گیا اور اس نے صورتِ حال کو قبول کر لیا اور باقی زندگی بیٹھ کر حالات کے مختلف ہونے کا دُکھ کرنے کی بجائے وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنی زندگی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے میں جُت گیا۔

6

Key-2 : ماضی میں زندہ رہنا اور اپنے فیصلوں کے ا ثرات/ نتائج کو نہ سمجھنا لوگوں کوان کی صلاحیتوں سےبھر پورفائدہ اُٹھانے سے روکتا ہے۔

کیاآپ نے کبھی غور کیا کہ جس انداز میں آپ اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں وہ سوچ ہی آپ کو اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح فائدہ حاصل کرنے سے روک رہی ہے۔ہم میں اکثر لوگ زندگی کے فیصلے اپنے ماضی کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس طرح ایک ذہنی بیماری  (Rearview Mirror Syndrom (RM کاشکار رہتے ہیں۔ اگر آپ RMSکا شکار ہیں تو آپ یہی سوچتے ہیں کہ آپ آج یعنی حال میں بھی وہی ہیں جیسے آپ کبھی ہوا کرتے تھے۔ آپ کے تمام فیصلے اور انتخاب اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہوتے ہیں چنانچہ جب کبھی آپ کی زندگی میں نئے مواقع آتے ہیں آپ یہ سوچ کر انہیں رد کرتے دیتے ہیں کہ آپ  کو ماضی میں کبھی اس کا تجربہ نہیں ہوا۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے ماضی کے کسی ناکام رشتے کی وجہ سے حال میں بھی اپنے ساتھی سے تعلق نہیں نبھا پاتا تو شاید ایسا شخص RMS میں مبتلا ہے۔

7

زندگی میں پوری صلاحیتوں کو استعمال نہ کر پانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے فیصلوں کے نتائج کو زندگی اور دوسری حقیقتوں سے جدا کرکے دیکھتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم روزمرہ جو فیصلے کریں گے ان کے نتائج زندگی اور دنیا کے حقائق کے برعکس ہمارے حق میں یا ہماری خواہش کے مطابق ہوں گے۔

مثال کے طور پر جیسے آپ یہ سوچیں کہ اگر آج ایک دن آپ اپنی معمول کی ورزش نہیں کریں گے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اگلے دن اس کمی کو پورا کر لیں گے۔ لیکن یہ فیصلہ آپ کے موجودہ لمحے کو ہی متاثر نہیں کرے گا بلکہ آپ کی سوچ اور عادات کو متاثر کرکے آپ کی پوری زندگی پر اثرانداز ہو گا۔ اور اس کے واقعات کبھی کبھار کی بجائے معمول بن جاتے ہیں۔ 

بزنس مین اور مصنف T. Harv Ekerاپنی کتاب Secret of theMillionian Mind میں اس عادت کی اہمیت کچھ اس طرح بیان کرتاہے ’’آپ کسی چیز کو جس انداز میں آج انجام دیتے ہیں ہمیشہ ویسے ہی انجام دیں گے‘‘۔چنانچہ اگر آپ واقعات کو حقائق سے جدا کرکے دیکھتے ہیں

8

تو آپ خود کو رعایت دینے کے عادی ہو جاتے ہیں اور اس کے واقعات کبھی کبھار کی بجائے معمول بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً اپنی زندگی کے اہداف حاصل کرنے کی آپ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور زندگی میں اسی سطح تک کامیاب ہو پاتے ہیں جس حد تک آپ کے خودساختہ بہانے اور وجوہات آپ کو جانے دیتی ہیں۔اگر آپ اپنی خواہشات کے مطابق اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو زندگی کے بارے میں اپنی سوچ بدلیں، ماضی میں زندہ رہنا اوراپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے لئے جواز تلاش کرنا آپ کی کامیابی کو آپ سے دور کر دیں گے۔

Key-3: خود کو بیدار ہونے کی تحریک دینے کے لئے اپنی صبح کا معمول تبدیل کر دیں۔

اچھا تو آپ کیسے غنودگی میں زندگی برباد کرنے سے بچیں گے اور اپنی پوری صلاحیتیں اپنے خوابوں کی تعبیر کے حصول پر صرف کریں گے۔ اس سلسلے میں ایک بہت اہم قدم وقت پر بیداری کی ترغیب دینے کے لئے صبح کا معمول بدلنا ہے۔ اس ترغیب کو شدت کے لحاظ سے ایک سے دس تک نمبر دئیے جا سکتے ہیں۔ دس نمبر زکا مطلب یہ ہے کہ آپ بیدار ہونے کے لئے

9

 بہت پرجوش ہیں اور ایک نمبر کا مطلب ہے کہ آپ الارم بند کرکے دوبارہ سو جائیں۔ خوش قسمتی سے چند سادہ سی تکنیکس کے استعمال سے آپ بہت چست اور چاک و چوبند ہو سکتے ہیں اور اپنی صبح کے معمول میں بہت پرجوش تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بستر پر جانے سے پہلے آپ خود کو یقین دلائیں کہ آپ صبح تازہ دم بیدار ہوں گے۔ اگر آپ اگلے دن کے لئے سوچتے ہوئے تمام کاموں کی تکمیل پر خوشی جو آج ہی مسحوس کر سکیں تو صبح آپ  کے لئے بوجھل نہیں ہو گی۔ اپنے الارم کلاک کو بستر سے اتنی دور رکھیں کہ صبح الارم کو بند کرنے کیلئے آپ کو بستر سے اُٹھ کر جانا پڑے۔ ایک بار جب آپ بستر سے اُٹھ جائیں اور الارم بند کر دیں تو باتھ روم جائیں اور اپنے دانت برش کریں۔ یہ کرنے سے آپ کو تازگی محسوس ہو گی اور آپ خود کو  زیادہ چست محسوس کریں گے۔ اس کے بعد ایک گلاس پانی پئیں۔ اس سے آپ  کوساری رات سانس لینے کے عمل میں جتنا پانی استعمال ہوا  اسے دوبارہ پورا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یاد رکھیں کہ جسم میں پانی کی کمی سے آپ تھکن محسوس کرتے ہیں۔ ان سب باتوں پر عمل کرکے آپ زیادہ تازہ دم اور چست بیدار ہوں گے۔

10

Key-4: Silence (خاموشی)

صبح کے وقت بامقصد غور و فکر/ مراقبہ ذہنی دباؤ کے خلاف مددگار ثابت ہو گا۔اس بات کا بہت امکان ہے کہ دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح آپ بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہو جائیں۔ اس ذہنی دباؤ کو کم کرنے کا ایک بہت طاقتور حر بہ آپ کی معجزاتی صبح کے معمول کا پہلا عمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صبح بیداری کے بعد بامقصد، بامعنی اور مفید مراقبے کے لئے تھوڑا سا وقت نکال لیں۔ بہت سے ایسے افراد جو کسی نہ کسی حوالے سے بہت زیادہ ذہنی دباؤو الے کاروبار/ پیشے یا ذمہ داریوں سے منسلک ہیں وہ اپنے ذہنی دباؤ (Stress) میں کمی کے لئے مراقبے کی تکنیک پر عمل کرتے ہیں۔ The Huffiagton Postنامی جریدہ لکھتاہے کہ Oprah Winfreyمراقبے کو رب یا خالق سے رابطے کا ذریعہ سمجھتی تھی۔بہت سے مشہور لوگ جیسے Jerry Semfeld StingاورRussel Simmonsبیان کرتے ہیں کہ مراقبہ ان کی زندگیوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔آپ کو بھی اپنی معجزاتی صبح کے آغاز کے لئے مراقبے کو اپنی صبح کے معمول میں شامل کرنا چاہیے۔

11

مراقبہ کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنی روزمردہ پریشانیوں سے تھوڑی دیر کے لئے ناطہ توڑ لیں/ ذہن سے نکال دیں اور اپنے آپ پر توجہ مرکوز کریں۔ کسی پُرسکون اور خاموش جگہ پر آرام دہ انداز میں آلتی پالتی مار کر کمر کو باکل سیدھا رکھتے ہوئے بیٹھ جائیں۔ اپنی آنکھیں بند کر لیں یا اپنے بالکل سامنے فرش پر نظر جما دیں۔ اپنی سانس پر دھیان دیتے ہوئے ناک سے سانس اندر اور منہ سے باہر نکالیں۔ سانس آہستہ آہستہ لیتے ہوئے اپنے پیٹ کے اندر تک لے جائیں۔ (پیٹ پھلائیں) یعنی سانس چھاتی تک محدود مت رکھیں۔ تب ایک مخصوص انداز ا ور رفتار سے سانس لیں۔

تین سیکنڈ تک اندر سانس لیں پھر تین سیکنڈ تک سانس باہر نکالیں اور اس دوران ذہن میں آنے والی سوچوں کو نکال کر سانس پر دھیان رکھنے کی کوشش کریں۔ ہو سکتاہے شروع میں یہ مشکل لگے لیکن جوں جوں آپ روزانہ کرتے جائیں گے یہ عمل آسان ہو جائے گا۔تھوڑا تھوڑا کرکے آپ اپنا ذہنی دباؤ کم ہوتا ہوا محسوس کریں گے۔ اگر آپ پہلے ہی ایسی کوئی تکنیک استعمال کر چکے ہیں اور آپ کو لگتاہے کہ یہ آپ کے لئے مفید نہیں ہے تو آپ کوئی طریقہ بھی (اپنے مزاج ا ور پسند کے مطابق) ڈھونڈ سکتے ہیں۔

12

اس کا مقصد تھوڑے سے وقت کے لئے اپنی زندگی پر غور کرنا اور جو کچھ بھی زندگی میں آپ کے پاس ہے اس پر شکر گزار ہونا ہے۔

Key-5: Affirmation (اثبات، اقرار کرنا(

ہم ایک اوسط یا درمیانے درجے کی زندگی سے اُس زندگی کی طرف کیسے جاتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں یا جو ہماری خواہشتا ت اور خوابوں کے مطابق ہودراصل ہم اپنے آپ سے جو باتیں کرتے ہیں ہمارے دماغ میں تحت الشعور اس گفتگو سے پروگرام ہوتا ہے اور اسی لئے ہم مثبت باتیں بار بار دہرا کر اپنے ذہن کو پروگرام کر سکتے ہیں۔ہمارے دماغوں میں سوچ کی ایک مسلسل لہر چلتی رہتی ہے جس کی بنیاد ہمارے زندگی کے تجربات پر ہوتی ہے اور سوچووں کی یہ لہر ہمارے حق میں ہو گی یا مخالفت میں، اس کا انحصار خود ہم پر ہے۔اپنی سوچوں کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے اور فائدہ حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل نکات پر عمل کریں۔

آپ اپنی زندگی جیسی چاہتے ہیں اس کابول کر اظہار کریں اور تحریر بھی کر لیں۔ اپنے مقاصد اور محرکات واضح کرنے کے لئے خود سے مندرجہ ذیل سوال کریں۔

13

  1. آپ یہ سب کیوں چاہتے ہیں؟
  2. آپ کیا کچھ چاہتے ہیں؟
  3. اور آپ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ کرنے کو تیار ہیں؟

جب آپ اپنے لئے جوابات تیار کر لیں تو دن میں کم از کم ایک بار بلند آواز میں یہ سب پڑھیں۔ اس عمل کو صبح کے وقت اپنی عادت بنانے سے انسان کو آگاہی ملتی ہے کہ اسے کیا بننا ہے ، کیا حاصل کرنا ہے اور کیسے حاصل کرنا ہے ۔ جو کچھ آپ نے سوچ رکھاہے اس پر کیسے عمل کرناہے ۔ یہ وہ طاقت ہے جس سے انسان اپنی زندگی کو خوشحا ل بنا سکتا ہے۔ اور اپنی زندگی کامقصد جان سکتاہے۔ یہ سائنسی اصول ہے کہ پہلے انسان کسی کام کے بارے میں سوچتا ہے پھر اس کے کرنے کا عزم کرتا ہے۔ مثبت سوچ کے بعد بار بار اسے دہرانا کامیابی کی ضمانت ہے۔

14

Key-6: Visualization (تصور، ذہنی تصاویر بنانا) ۔

کامیابی حاصل کرنے کا ایک اور اصول جو بہت سے اتھلیٹ استعمال کرتے ہیں وہ اپنے ذہن میں مطلوبہ منظر تخلیق کرنا اور اسے دیکھنا ہے۔آپ بھی اس تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اپنی من چاہی زندگی کی تصویر اپنے ذہن میں بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کوئی کتاب لکھنا چاہتے ہیں تو اپنے تصور میں خود کو اپنی ڈیسک پر بیٹھے ہوئے کتاب کے صفحات لکھتے ہوئے دیکھیں۔ جب آپ اوپر دئیے گئے سوال اور ان کے جوابات باآواز بلند پڑھیں تو ساتھ ساتھ اپنے ذہن میں ان کا تصور بھی کر سکتے ہیں۔بار بار خود کو یقین دلانا، بتانا اور پھر تصور کرنا بہت طاقتور طریقے ہیں اور یہ آپ کے تمام اقوال و افعال کو لاشعوری طور پر تبدیل کر دیتے ہیں جس سے آپ کو ا پنی مرضی کی زندگی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہال کا دعویٰ ہے کہ کسی چیز کا تصور ذہن میں بار بار لانے سے انسان کے اندر اسے حاصل کرنے کی قوت و عزم پیدا ہوتا ہے۔ ہال مزید لکھتے ہیں کہ ایک آدمی صرف ممکن چیزوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ اور ان کا تصورذہن میں لاتا ہےلیکن پر عزم لوگ ہمیشہ ناممکن چیزوں کو تصور میں بار بار لا کر ممکن بنا تے ہیں۔

15

Key-7: Exercise (ورزش کرنا)

 صبح کے وقت ورزش نہ صرف آپ کی صحت بہتر کرے گی بلکہ کامیابی کے راستے پر آگے بڑھنے میں آپ کی مدد کرے گی۔ہم اکثر محسوس کرتے ہیں کہ ہم اتنے مصروف ہیں کہ ورزش کے لئے وقت نہیں نکال سکتے۔ ایسالگتا ہے کہ ہم دن بھر مختلف سرگرمیوں میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ شام کے وقت تھکن سے چور ہو جاتے ہیں اس لئے شام کو ورزش کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوتاہے۔ چنانچہ کیوں نہ دن کا آغاز ہی ورزش سے کیا جائے۔ ورزش جسم کو صحت مند رکھنے کے لئے اشد ضروری ہے چنانچہ بہت مفید ہو گا اگر ہم اپنی زندگیوں میں ورزش کو شامل کر لیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم سب اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ ہمارا دن بہت مصروف ہو گا، بعض اوقات جب آپ کام سے فارغ ہونے لگتے ہیں تو بالکل آخری وقت میں نئی مصروفیات سامنے آ جاتی ہیں چنانچہ دن کے اختتام پر ہم صرف بستر پر گرنے کے قابل ہوتے ہیں اور جاگنگ یا ورزش کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔مثال کے طور پر جب ایک مشہور او رکامیاب کاروباری شخص Eben Pagan سے اس کی کامیابی کا راز پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا۔

16

’’ہر صبح کاآغاز ایسے معمول سے کریں جو آپ کی کامیابی میں کردار ادا کرے، اور پھر اس نے زور دیا کہ اُس کے معمول میں ورزش لازمی حصے کے طور پر شامل ہے اور مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دل زیادہ کام کرنےکو کرتا ہے، خون زیادہ تیز چلتا ہے اور پھیپھڑے زیادہ آکسیجن لیتے ہیں۔‘‘

ہر صبح ورزش کی عادت بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اس سے جسمانی تندرستی کے ساتھ ساتھ ذہنی بالیدگی بھی حاصل ہوتی ہے ۔ چونکہ صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے۔ جسم اور دماغ کا صحت مند ہونا کسی بھی کام کو احسن طریقے سے بجا لانے کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ۔ ہال کہتا ہے کہ ورزش سے جسم کو طاقت اور ذہن کو قوت ملتی ہے ۔ اس سے انسان کو خود اعتمادی اور خود انحصاری حاصل ہوتی ہے۔ یہ عادت ہماری توجہ کو تیز کرتی ہے اور مزاج کو شگفتہ بناتی ہے ۔ ورزش انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ رکھتی ہے جو کہ کسی بھی کام کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لہذا زندگی کے کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہر صبح ورزش کرنا ضروری ہے۔ یہ عمل انسان کو بے بہا قوت اور توانائی بخشتا ہے۔ اس کی مثال ایک معجزے کی طرح ہے جس سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے۔ انسان اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کرتا ہے اس کے برعکس ایک کاہل اور سست انسان کبھی اپبے مق

17

کے حصول میں کامیابی حاصل کرتا ہے اس کے برعکس ایک کاہل اور سست انسان کبھی اپبے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ہال کے تجربے کے مطابق صبح کے وقت روزانہ اٹھنا اگرچہ دشوار ہے لیکن جب آپ اسے اپنامعمول بنا لیں تو یہ آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔

Key-8: Reading (مطالعہ کرنا)

اپنی ذاتی ترقی کیلئے صبح کے وقت کچھ ضرور پڑھیں جب آپ ورزش کر چکے ہوں تو آپ کی معجزاتی صبح کا اگلا مرحلہ اپنی ذاتی نشوونما پر توجہ دینا ہے۔  پڑھنا  بہت اہم سرگرمی ہے، جو اپنی کامیابیوں پر غور کرنے اور اپنی کوششوں کو مزید بہتر کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ہم سب صبح کے وقت کچھ نہ کچھ پڑھنے کے لئے وقت نکال سکتے ہیں اور اسی طرح اپنی شخصیت کی بہتری پر کتابیں پڑھنے سے آپ دوسرے کامیاب لوگوں کے تجربات سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔

بازار میں ہر موضوع جیسے آمدنی بڑھانے، اپنے تعلقات بہتر بنانے یا کاروبار قائم کرنے کے متعلق کتابیں موجود ہیں۔مطالعہ کرنے کی مقدار سے متعلق ایک مناسب ہدف 10صفحے روزانہ ہے۔ اس کا مطلب روزانہ 10سے

18

 20منٹ جس کا انحصار آپ کے پڑھنے کی رفتار پر ہے حیران کن حد تک یہ کل 3650صفحہ سالانہ اور تقریباً 18کتابیں بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ دوبارہ اس چیز کا مطالعہ کرنا، اہم معلومات کو دائرہ بنا کر یا نمایاں کرکے آپ دوبارہ ان باتوں کا مطالعہ آسان بنا سکتے ہیں۔

مفید کتابوں کا مطالعہ انسان کو نئے نئے تجربات و اسباق سکھاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام عظیم لوگ پڑھنے کے بہت زیادہ شوقین تھے ۔ آپ بھی عظیم لوگوں کی طرح کتابیں پڑھ کر اپنی زندگی کو مثبت بنا سکتے ہیں۔ کتابوں میں علم کے قیمتی موتی پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ علم حاصل کرنے سے انسان کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور انسان کی بصیرت ودانائی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ علم سے انسان میں بردباری، صبر، تحمل اور عقل آتی ہے۔ مطالعہ کی عادت سے انسان صبرو رضا کا پیکر بن جاتا ہے۔ علم انسان کو نئی نئی حقیقتوں سے روشناس کرواتا جاتا ہے

Key-9: Scribing (کتابت، لکھنا)

 ہر صبح اپنے احساسات، تجربات اور معلومات کو تحریر کرنا، شخصی نشوونما کے لئے بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر Elrodنے محسوس کیا

19

کہ وہ اسے تحریر کرنے کے عمل سے بہت خوش ہے۔ وہ اس بات پر بہت شکرگزاری محسوس کرتا ہے کہ لکھنے سے اسے ان تمام اشیاء پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے جو وہ حاصل کر چکا تھا اور ساتھ ہی ان چیزوں پر بھی سوچا جو وہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہ ایک صفحے کو دو کالم میں بانٹ دیتا اور ایک کالم میں حاصل کردہ/ سیکھے ہوئے اسباق اور دوسرے کالم میں نئے عہدے کا عنوان تحریر کرتا ہے اس سے اسے اپنی غلطیوں سے بچنے کا موقع ملا اور ان ارادوں کو مزید پختہ کیا جو وہ آئندہ زندگی کے لئے سوچ چکا تھا۔

ہر روز لکھنے سے آپ اپنی زندگی سے سیکھے ہوئے اسباق دوبارہ یاد کر سکتے ہیں۔ اپنے مسائل کے بارے میں مزید وضاحت حاصل کر سکتے ہیں اور اس طریقہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی ترقی کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ یہ اپنی سوچ کو عملی جامعہ پہنانے کا پہلا عمل ہے۔ مصنفین ، شاعر اور ڈرامہ نگار عظیم لوگ ہوتے ہیں ۔ یہ عظیم لوگ اپنی تحقیق کی مدد سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں ۔ لکھنے کے عمل سے انسان کی سوچ کے بند دروازے کھلتے ہیں اور اسے کامیابی کا راستہ خود بخود مل جاتا ہے۔ 

20

 : Key-10اپنی معجزاتی صبح کو اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالیں۔

 آپ صبح کے اوقات میں کی ان چھ عادات سے متعارف ہو چکے ہیں جو آپ کی زندگی میں کامیابی اور آپ کی خواہشات کی تکمیل کا باعث بن سکتی ہیں تو یہ سیکھنا بھی اہم ہے کہ ان عادات کو کس انداز میں اختیار کیا جائے کہ یہ آپ کی ضروریات کے مطابق ڈھل جائیں۔

آپ ان تمام معمولات کے لئے کتنا وقت صرف کرتے ہیں یہ مکمل طور پر آپ کی مرضی ہے اگر آپ چاہیں تو صبح کے 60منٹ اپنے دن کی تیاری میں گذار سکتے ہیں اور اس ایک گھنٹے کو اپنی مرضی سے مختلف سرگرمیوں کے لئے تقسیم کر سکتے ہیں آپ چاہیں تو چھ میں ہر ایک عمل کو 10منٹ دیں،اگر آپ کو اچھا لگے تو 30 منٹ ورزش اور باقی پانچ سرگرمیوں میں سے ہرایک کو چھ منٹ دیں۔

حتی کہ صرف چند منٹ نکال لینا بالکل کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے۔ چنانچہ اگر آپ کا شیڈول بہت سخت ہے کہ آپ اس میں سے کسی بھی دوسری سرگرمی کےلئے وقت نہیں نکال سکتے تو پریشان ہونے کے بجائے صرف چھ منٹ مندرجہ ذیل انداز میں اپنی صبح کو دیں۔

21

پہلا منٹ: خاموشی اور مراقبہ، دوسرا منٹ: اپنی خواہشات اور اہداف بآواز بلند دہرائیں۔ تیسرا منٹ: اپنے دن کو بہت اچھا گزرتے ہوئے تصور کریں۔ چوتھا منٹ: جن چیزوں کے لئے آپ اللہ کے شکر گزار ہیں وہ جو آپ چاہتے ہیں انہیں لکھیں۔ پانچواں منٹ: کسی کتاب کے دو صفحے پڑھیں۔ چھٹا منٹ: کوئی تیز حرکت اور تیز سانس لیناا بہتر ہے۔

اپنی معجزاتی صبح میں مزید آزادی حاصل کرنے کے لئے آپ وقت اور جگہ بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ مثلاً جس شخص کو بہت زیادہ سفر کرنا ہوتاہے اور وہ اپنی صبح کی اشیاء اپنے ساتھ رکھتا ہے جیسے یوگا کے اسباق اور کوئی کتاب یا رسالہ وغیرہ۔ ایسا کرنے سے وہ کہیں بھی بیٹھ کر مراقبہ کر سکتا ہے۔ اہداف دہرا سکتے ہیں اور اپنے دن کا تصور کر سکتا ہے۔

اگر آپ رات کی ملازمت کرتے ہیں اور دن کو بہت دیر سے بیدار ہوتے ہیں تو آپ اس وقت بھی اپنی صبح کے سارے معمولات انجام دے سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی ترقی و نشوونما کے لئے کچھ وقت اور وقف کریں۔

22

Key-11: 30دن تک مسلسل عمل کرنے کاعہد اور ایک جوابدہی کرنے والا دوست صبح کو آپ کی عادت بنانے میں مددگار ہو گا۔

کسی بھی دوسری اچھی عادت کی طرح معجزاتی صبح کی عادات بھی آپ کو تب ہی فائدہ پہنچاتی ہیں جب آپ ان پر قائم رہتے ہیں اور باقاعدگی سے ا نہیں انجام دیتے ہیں۔

اس چیز کو یقینی بنانے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھ کسی کو شریک کریں جو کسی سستی کی صورت میں آپ سے جواب طلب کرے۔ ہم سب کی زندگیوں میں ایسے وقت آتے ہیں جب ہمارا کسی مخصوص کام جیسا کہ جم  وغیرہ جانے کو  جی نہیں چاہتا۔ تاہم اگر وہاں کوئی دوست ہمارا انتظا کر رہا ہو تو ہم جانے کی زیادہ تحریک محسوس کرتے ہیں۔

جب کوئی ہم سے جواب طلب کرنے والا ہو تو ہم زیادہ باقاعدگی سے کام انجام دیتے ہیں۔ چنانچہ کوئی ایسا دوست ڈھونڈیں جو آپ کے ساتھ مل کر اس صبح کے معمول کو انجام دے اس طرح آپ دونوں ایک دوسرے کو بلا سکتے ہیں اور معمول قائم رکھ سکتے ہیں۔

23

ہم جانتے ہیں کہ کسی عادت کو اپنانے میں تقریباً 30دن لگتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے 30دن کے لئے اپنے آپ کو ا س معجزاتی صبح کی تبدیلی کے لئے وقف کرنا ہے۔ تبدیلی کے اس عمل کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے دس دن خاصے مشکل اور ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں۔ اگلے دس دن نسبتاً   آسان ہو جاتے ہیں لیکن اب بھی اجنبیت اور ناگواری محسوس ہوتی ہے تاہم آخری دس دن میں نیا معمول آپ کی شخصیت کاحصہ بن چکاہوتاہے اور آپ اس سے لطف اندوز ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مصنف کو بھاگنے سے نفرت تھی لیکن اس نے 30دن تک کے لئے خود کو وقف کیا۔ پہلے دس دن تک وہ یہ عادت ترک کرنا چاہتا تھا۔ ہر روز اپنے اندر کی اس آواز سے لڑتا جو اس سے کہتی کہ اگر وہ ترک کر دے گا تو کچھ مسئلہ نہیں ہے لیکن اس نے یہ آواز نہیں سنی۔ اگلے دس دن میں بھاگنے کے عمل سے ا س کی نفرت ختم ہو گئی اور اسے ایک نارمل عمل محسوس ہونے لگا اور آخرکار آخری دس دنوں میں یہ عمل اس کے لئے خوشی کا باعث بن گیا۔

24

خلاصہ:
کتاب کے مصنف ہال ایلروڈ نےاس لئے اپنی کتاب کا نام معجزاتی صبح رکھا، کیونکہ ہر نئی صبح کو نیند کے بعدتازہ حالت میں پانا ایک بڑی خوش قسمتی ہوتی ہے،اگر ہر صبح کومصنف کے بتائے دئیے گئے طریقے سے شروع کیا جائے تو آپ صحت مند زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں۔آپ اس معمول کی بدولت لازوال علم و طاقت کے مالک بن سکتے ہیں۔اس پر عمل کرنے سے آپ کو جسمانی صحت، روحانی بالیدگی اور دماغی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ ہال کی یہ کوشش انسانی فلاح کی طرف ایک بڑی پیش قدمی ہے ۔ The Life Saversکو معمول بنا کر آپ پرسکون رہنے کے ساتھ خوشحال بھی بن سکتے ہیں۔ یہ کتاب ا ن لوگوں کے لئے ایک نسخہ کیمیا ہے جو زندگی میں بے سکونی، لاپرواہی، جسمانی و دماغی کمزروری یا تھکن کا شکار ہوں اور سستی کی وجہ سے کام کرنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکے ہوں۔ یہ معمول ز ندگی کے تما م شعبہ جات کے لئے اہم ہے ۔ یہ اصول زندگی کے ہر شعبے کے ا فراد خواہ وہ طالب علم ہوں یا استاد، انجنئیر ہوں یا ڈاکٹر، پائلٹ ہوں یا ماہر تعمیر ،الغرض ہر خاص و عام کے لئے یکساں افادیت رکھتے ہیں۔ اس آسان معمول پر عمل کرنے سے لاکھوں لو گ فیض یاب ہو چکے ہیں۔

پڑھیں! دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابیں

کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں Keytaab لوگ

"When it comes to your National Language,this is something matchless"

Nazia Shahzad

"They are providing a platform to build a confident youth generation that can boldly defend and face situation through the power of their education"

Max Einstien

کتاب کے ممبر بنیں، ٹائم اور پیسہ بچائیں

ہر نئی کتاب کی اپڈیٹ حاصل کریں